آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس نے نئی آسامیوں کا اعلان کر دیا

آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس نے نئی آسامیوں کا اعلان کر دیا

مظفر آباد(پاک میڈیا پوائنٹ)آزادجموں کشمیر میں پبلک سروس کمیشن ، محکمہ تعلیم،احتساب بیورو،سروسز،انتظامیہ سمیت متعدد محکمہ جات کی من مانیاں توہین عدالت کے مرتکب،عدالتی عظمی کے فیصلوں کو دھڑلے سے ہوا میں اڑا نے میں مصروف،آزادجموں کشمیر میں عدلیہ کو بھی ان اداروں نے ماموں بنا رکھا ہے،چیف جسٹس اپنے کیے گئے فیصلوں پر عملد کروائیں،میرٹ اینڈ ریفارمز موومنٹ آزاد کشمیر کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق آزاد جموں کشمیر میں مختلف محکمہ جات نے مشتہر شدہ آسامیوں کی ریکوزیشنز واپس لینے،ان پر برقت امتحانات کے انعقاد میں رخنے ڈالنے،پبلک سروس کمیشن کی جانب سے میرٹ و ویٹنگ لسٹ کو خفیہ رکھنے سے متعلق آزاد جموں کشمیر کی عدلیہ کے فیصلوں کی توہین کرتے ہوئے من مانیاں شروع کررکھی ہیں، 2017ء میں موجودہ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کے فیصلے کے آخری پیراگراف کے نکات کے مطابق ”فرمان حکومت مجریہ25.08.2015بدوں اختیارا،خلاف حقائق،باطل اور کالعدم قراردیاگیا،حکومت اور متعلقہ محکمہفوری طور پر پانچ آسامیاں منتقل شدہ اور مابعد بھی اس کوٹہ کی کوئی اسامی دستیاب ہو کو قاعدہ ۳ آزادجموں کشمیرپبلک سروس کمیشن(پروسیجر) قواعد 1994 کے مطابق یکم ستمبر2017ءسے پہلے پبلک سروس کمیشن کو ارسال کرنے کا پابند ہے،آئندہ تمام محکمہ جات اور حکومت اس امر کو یقینی بنائیں کہ ہر سال دستیاب اسامیوں کو قاعدہ 3 کے مطابق بروقت پی ایس سی کو انتخاب کے لیے جاری کرنے کا پابند ہے،پی ایس سی بروقت اسامیوں کو مشتہر کرے اور ان پر انتخاب کو یقینی بنائے،اگر اسضمن میں پی ایس میں مزید ممبران کی تقرری یا وسائل کی فراہمی کا مسئلہ درپیش ہوتو حکومت کو فوری طور اس جانب توجہ دینے کی پابند ہے،عارضی کام چلاﺅ کے خلاف قانون اسامیوں کی منتقلی کے بجائے قواعد میں درج طریقہ کار اپنایا جائے،اور دستیاب اسامیوں پر بروقت تقرریاں قانون کی منشا¾ کے مطابق عمل میں لائی جائیںتاکہ ایسی صورت حال کا سامنا نہ ہو اور اس کے دیرپا منفی اثرات سے بچا جاسکے“۔
سپریم کورٹ آزاد جموں کشمیر کے اس فیصلے کو رد کرتے ہوئے حکومت وزراءکی ایماءپر بیوروکریسی اور محکمہ جات ریکوزیشنیں واپس کرنے کے لیے پی ایس سی کو مکتوب تحریر کرکے لیت ولعل سے کام لینے میں مصروف ہیں،جس کے کئی اہل امیدواران کا وقت برباد ہوررہا ہے،جبکہ موجودہ چیف جسٹس آزاد جموں کشمیر چوہدری ابراہیم کے ایک اور فیصلے خرم شہزاد بنام آزاد حکومت 11-01-2018 کے مطابق” سرکاری دستاویزات کی نقول فراہم نہ کرنا خلاف قانون ہے،ویٹنگ لسٹ جاری نہ کرکے درخواست گزار کو عدالت تک رسائی سے محروم کیا جاتا ہے ،میرٹ کا ثبوت فراہم کرنا درخواست گزار کے لیے مشکل ہے جو کہ درست عمل نہ ہے،فیصلے کی کاپی چیف سیکرٹری کو جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا جاتا ہے کہ جملہ سرکاری افسروں اور دیگر تمام متعلقہ حکام عملدر آمد یقینی بنائیں“۔ موجودہ پبلک سروس کمیشن اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹیفکیشن 90-380/2018 جو مورخہ9مارچ کو جاری کرتے ہوئے میرٹ لسٹ کو خفیہ بنا دیا گیا،جس کے بعد پی ایس سی کے ذریعے ہونے والے نتائج کو ایک بار پھر مشکوک سمجھا جارہا ہے،کئی امیدواران کے نام میرٹ لسٹوں میں شامل نہیں ہوتے جانچ پڑتال کے بعد امیدواران خود اپنے حق کے لیے نکلتے ہیں تو ان کے نام بعد ازاں ویب سائٹ پر جاری کیے جاتے ہیں،پی ایس سی کی اس روش سے کئی امیدواران کا استحصال ہورہا ہے،میرٹ اینڈ ریفارمز موومنٹ آزاد جموں کشمیر کی عدالت عظمی سے محکمہ جات کی من مانیوں کا نوٹس لیکر ان فیصلہ جات کی خلاف ورزی کے مرتکب محکمہ جات،حکومتی وزراءاور دیگر متعلقہ حکام کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے انصاف ملنے کے بعد محکمہ جات فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں ،عدالت عظمی خلاف ورزی کرنے والے محکمہ جات کو نوٹس جاری کرکے عمل درآمد کا پابند بنائے، غریب اور متوسط امیدواران اس استحصال سے بچ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!