لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی گئی

لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی گئی

کشمیر (نمائندہ خصوصی) :  2 مارچ2019  لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی، درہ شیرخان،سہڑہ ، بٹل، منڈہول اور گوئی سیکٹرزمیں بھارتی افواج کی سویلین آبادی کے علاقوں پر بھاری توپوں سے وقفے وقفے سے شدید گولہ باری کا سلسلہ جمعہ کی شب تک جاری ر ہا ،یہ سیکٹرز جنگ کا سماں پیش کرتے رہے،مزید دوخواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ، متعدد مکانات تباہ اورمال ومویشی ہلاک وزخمی ہوئے، برقی ومواصلاتی نظام درہم برہم ، آمدورفت کا سلسلہ معطل ، تعلیمی ادارے بدستوربند ہیں،عوام گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، درجنوں متاثرہ خاندان اہل عیال کولیکر اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ، متاثرین ایل اوسی کوشدیدمشکلات کاسامنا،حکومتی، انتظامی اورعوامی نمائندے غائب ہیں، کسی نے بھی تاحال متاثرین کی حوصلہ افزائی کیلئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا بھی گوارہ نہیں کیا، متاثرین ایل اوسی کا کوئی پرسان حال نہیں،ایل اوسی کے مختلف سیکٹرز کے بڑے مرکز صحت آر ایچ سی تتہ پانی میں بھی سہولیات ناکافی ہیں،متاثرین کا سخت اظہار برہمی،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کی رہائی کے ساتھ ہی لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی، درہ شیرخان،سہڑہ ، بٹل، منڈہول اور گوئی سیکٹرزمیں سویلین آبادی کے علاقوں تتہ پانی ونواح،دھناء کالونی ، دلیری،چکڑالی، درہ شیرخان ،مہنی کالونی،،ٹہنون، سہڑہ ،ناطر لچیال ، دوڑچھیاں، بٹل، منڈہول ، بھابڑہ ،برموچ ،شمالی گرھڈ، جنجوڑہ، کینٹ ، بٹالی، رڈ کٹھار، سندھارہ ، سہنی، ندھیری وغیرہ پر پھربھارتی افواج نے بھاری توپوں سے شدید گولہ باری شروع کردی اور رات گئے تک گولہ باری کاسلسلہ جاری رکھا، شدید گولہ باری کے باعث یہ سیکٹرز جنگ کا سماں پیش کرتے رہے ، بھارتی افواج کی جانب سے ان سویلین آبادی کے علاقوں پر سینکڑوں کی تعداد میں گولے برسائے گئے ، متعدد گولے تتہ پانی شہر اور بوائز ڈگری کالج، پولیس چوکی تتہ پانی کے قریب گرئے ،گولوں کے ٹکڑے لگنے سے ایک نوجوان اسجد اکبر ولد محمد اکبر عرف اکو، حفظہ دختر محمد شبیرساکنان دھناء کالونی تتہ پانی، رضوان خلیل ولد محمد خلیل ساکن سہڑہ، نور ین فاطمہ زوجہ محمد سخاوت ساکن رڈ گوئی زخمی ہوئے جبکہ درہ شیرخان کے رہائشی عبدالغفار ولد طاہر محمود ہفتہ کی صبح بھارتی افواج کی ٹارگٹ فائرنگ سے زخمی ہوئے، زخمیوں کو فوری کوٹلی ہسپتال پہنچایا گیا،گولہ باری سے دھناء کالونی سے محمد اسلم ، راجہ نور حسین ،محمد اشرف،شمالی گرھڈ جنجوڑہ سے محمد آصف، سہڑہ سے محمد رفیق،خادم حسین ، بندہورشریف سے سردار سراج الحق اور دیگرافراد کے مکانات تباہ اور متاثر ہوئے، جبکہ درہ شیرخان ٹہنون سے حاجی محمد شفیع کے دو قیمتی بیل ہلاک ہوگئے اور دیگر متعدد افراد کے مال ومویشی بھی ہلاک وزخمی ہوئے، ان علاقوں میں برقی ومواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا آمدورفت کا سلسلہ معطل ہے، تعلیمی ادارے بدستوربند ہیں،عوام گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، درجنوں متاثرہ خاندان اہل عیال کولیکر اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں، متاثرین ایل اوسی کوشدیدمشکلات کے اندر اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، دوسری جانب حکومتی، انتظامی اورعوامی نمائندے غائب ہیں، کسی نے بھی تاحال متاثرین کی حوصلہ افزائی کیلئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا بھی گوارہ نہیں کیا، متاثرین ایل اوسی کا کوئی پرسان حال نہیں،ایل اوسی کے مختلف سیکٹرز کے بڑے مرکز صحت آر ایچ سی تتہ پانی میں بھی سہولیات ناکافی ہیں،حکومتی وانتظامی ذمہ داران کے دعوے بیانات تک محدود ہیں،متاثرین نے حکومت ، انتظامیہ اور عوامی نمائندوں پر سخت اظہار برہمی کا اظہار کیا جارہاہے،ان سیکٹرز میں بسنے والے مکینوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برداری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی افواج کی بربریت خصوصا سویلین آبادی پر گولہ باری کافوری نوٹس لیاجائے اور بھارتی افواج کو سیز فائرلائن معائدے کی پابندی کروائی جائے تاکہ وہ سکھ وچین کی زندگیاں گزار سکیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!